تحریر: مولانا گلزار جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| غدیر اسلام کی عظیم عیدوں میں سب سے بڑی عید ہے اور اس اہمیت اور ضرورت قرآن سے بھی ثابت ہے۔
﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ کا آغاز بیان
﴿عَلَّمَ بِالْقَلَمِ﴾ میں تعلیم قلم کا ارتقاء۔
﴿قُمْ فَأَنْذِرْ﴾ کا قیام و انذار ۔
﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ﴾ میں وحدت کی تجلی کا اعلان۔
﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى﴾ زبان وحی شناس
﴿إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى﴾ کا بیان ترجمان ۔
بعثت سے حجۃ الوداع تک، نزول سے صعود تک،
یتیمی سے ملاء اعلیٰ تک، تنزیل سے تأویل تلک، رسالت اپنا سفر طے کرتی رہی۔
بدر میں:
﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ﴾
اُحد میں:
﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا﴾
خندق میں:
﴿وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ﴾
خیبر میں:
﴿فَتْحًا قَرِيبًا﴾
فتح مکہ میں:
﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾
مباہلہ میں:
﴿فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ﴾
اور پھر غدیر میں:
﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ﴾
گویا تمام منزلوں کا حاصل ایک منزل میں جمع ہوگیا۔
صحرا خاموش۔
افق طلوع۔
آفتاب روشن
﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾
مہتاب منتظر
﴿وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا﴾
کھلی دھوپ
دھلا منظر
﴿وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا﴾
منافقین کی نظر
﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا﴾
ستارے سکوت
﴿وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ﴾
اور ملأِ اعلیٰ سے ایک صدا:
﴿وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ﴾
شاید سوالِ مقدر نے دستِ طلب پھیلائے، کیا پہنچاؤ؟
﴿فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَى﴾
آوازِ ملک گونجی:
﴿فَأَوْحَى إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَى﴾
یثرب سے قاب قوسین کا سفر یاد آیا، ولایت کی خوشبو سے مشام معطر ہوا۔
پر بشریت نے شیطنت کی سازشی نگاہوں کو
﴿وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ﴾
سے محسوس کیا تو نظر اٹھا کے جانبِ آسمان دیکھا۔
عجب نہیں آواز آئی ہو:
﴿قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ﴾
ہم نے نظر دیکھ لی، جانتے ہیں:
﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ﴾
گھبراؤ نہیں:
﴿وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾
اس تعویذ کا قلبِ اطہر پر اترنا تھا کہ
﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾
کا کحل آنکھوں میں سما گیا۔
تب رسالت رکی۔
قافلے نے توقف کیا۔
زمانہ ٹھہرا۔
اب خطاب کیسے ہو؟
لق و دق بے آب و گیاہ صحرا ہے۔
ملک خدمت گزار ہوا:
﴿أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ﴾
پالانِ شتر کا منبر بلند ہوا۔
گویا:
﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾
کا ایک نیا ظہور ہوا۔
﴿مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ﴾
کا منظر ابھرا۔
﴿بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ﴾
کا پردہ جمِ غفیر کی شکل میں رونما تھا۔
﴿عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ﴾
کا تقاضا،
﴿حَرِيصٌ عَلَيْكُم﴾
کا متمنی،
﴿بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ﴾
کا خوگر،
﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾
نے کملی اٹھائی۔
﴿رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ نے اقرار لیا:
"ألست أولى بكم من أنفسكم؟"
اور جب زبانوں کی نوکوں نے "بَلٰی" کہا تو گویا
﴿شَهِدْنَا﴾
کی تفسیر لکھی گئی۔
﴿قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ﴾
کا بیان کافی و شافی ہوا۔
پھر نبوت کا ہاتھ بلند ہوا۔ پھر وجہ اللہ کا عنوان، ولی اللہ، اور ولایت کا چہرہ آفتاب کے مقابل جلوہ گر ہوا۔
یہ وہ چہرہ تھا جس کے متعلق:
﴿إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ۔۔۔﴾
نازل ہوئی۔
یہ وہ گھر تھا جس کے متعلق:
﴿فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرْفَعَ﴾
فرمایا گیا۔
یہ وہ طیب و طاہر تھا جس کے لیے:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ﴾
کا فرمان اترا۔
یہ وہ قرب تھا جس کی سمت:
﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾
اشارہ کرتی ہے۔
یہ وہ باب تھا جس کے متعلق:
﴿وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا﴾
کی رمزیں مسکراتی ہیں۔
یہ وہ حقیقت تھی جسے اہلِ عرفان نے "عینُ اللّٰہ" کہا، کیونکہ:
﴿تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا﴾
کے اسرار اس کی نگاہوں میں تھے۔
یہ وہ عظمت تھی جسے اہلِ معرفت نے "یَدُ اللّٰہ" کہا، کیونکہ:
﴿يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ﴾
کی تجلی اس کے بازو میں تھی۔
یہ وہ منزلت تھی جسے "أُذُنُ اللّٰہِ الْوَاعِيَة" کہا گیا، کیونکہ:
﴿وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ﴾
کا ظرفِ اکمل وہی تھا۔
یہ وہ قرب تھا جسے "نَفْسُ اللّٰہ" کہا گیا، کیونکہ:
﴿وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ﴾
کی تفسیر مباہلہ میں نمایاں ہوئی۔
یہ وہ جہت تھی جسے "جَنْبُ اللّٰہ" کہا گیا، کیونکہ:
﴿يَا حَسْرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِي جَنبِ اللَّهِ﴾
کے اسرار اسی نسبت سے روشن ہوئے۔
یہ وہ نور تھا جسے:
﴿كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ﴾
یا
﴿نُورٌ عَلَىٰ نُورٍ﴾
کہا جاسکتا ہے۔
یہ وہ میزان تھا جس کے بغیر:
﴿وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ﴾
کی حکمت ادھوری دکھائی دیتی ہے۔
پھر اعلان ہوا:
"مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهٰذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ"
تو گویا
﴿قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ﴾
کی تفسیر چلتی پھرتی صورت میں سامنے آگئی۔
اور اسی لمحے غدیر، نبأ عظیم بن گئی۔
مگر کوئی معمولی نبأ نہیں۔
﴿عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ﴾
وہ نبأ جس میں امتیں مختلف ہوئیں۔
وہ نبأ جس پر تاریخ تقسیم ہوئی۔
وہ نبأ جس کے گرد وفا اور جفا کے قافلے الگ ہوئے۔
وہ نبأ جس سے صراط اور سراب جدا ہوئے۔
پھر آسمان نے آخری مہر ثبت کی:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾
دین مکمل۔
﴿وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي﴾
نعمت تمام۔
﴿وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾
رضائے رب کی تکمیل۔
تب غدیر ایک مقام نہ رہی۔
وہ ﴿صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾ بن گئی۔
وہ ﴿عُرْوَةِ الْوُثْقَى﴾ بن گئی۔
وہ ﴿كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ﴾ بن گئی۔
﴿مَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ﴾ کی زندہ دلیل کہلائی۔
وہ ﴿نُورٌ عَلَىٰ نُورٍ﴾ بن گئی۔
اور رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان وہی معیار ٹھہری جسے قرآن نے یوں سمیٹ دیا:
﴿فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ﴾
گویا منکرِ غدیر، بنظرِ قرآنِ حکیم، ضال ہے، مضل ہے، اور ذلیل و رذیل بھی۔
ربِ کریم غدیر سمجھنے اور سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے۔









آپ کا تبصرہ